تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی | کچھ لوگ آگ سے بچنے کے لیے اس سے دور بھاگتے ہیں، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو آگ کی لپٹوں سے جنم لیتے ہیں۔ جناب ابراہیم ع کا ایک وجود نار نمرودی میں جانے سے پہلے ہے ایک بعد میں دونوں میں بڑا فرق ہے ۔آتش نمرود سے نکلتے ہی "ابراہیم ع کائنات کی وسعتوں پر ایسے چھائے کہ تاریخ میں آگ شعلوں میں نہا کر اسے شکست دینے والی منفرد شخصیت بن گئے ۔
کچھ لوگ آگ کے سامنے فورا جھلس جاتے ہیں کچھ آگ کے سمندر سے گزر کر تاریخ رقم کر دیتے ہیں
کچھ لوگ جہاں تاریخ کے طوفانوں میں اپنا راستہ تلاش کرتے ہیں تو کچھ خود تاریخ کے راستے کا نشان بن جاتے ہیں۔
سید حسن نصراللہ انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔
وہ شخص جس نے نجف کی علمی فضا سے اپنا سفر شروع کیا اور ضاحیہ کے مورچوں تک پہنچا؛ جس نے کتاب اور میدان، فکر اور عمل، محراب اور محاذ، سب کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔ وہ صرف ایک تنظیم کے سربراہ نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے عہد کی علامت بن گئے جس میں مزاحمت، عزت، آزادی اور ظلم کے مقابل کھڑے ہونے جیسے الفاظ نے دوبارہ اپنی معنویت حاصل کی۔
ان کی جانسوز شہادت نے ایک شخص کو ہم سے جدا نہیں کیا؛ اس نے ایک پورے عہد کے ایک روشن باب کو خون سے لکھ دیا۔
کچھ شخصیتیں اپنی موت سے ختم نہیں ہوتے۔
وہ اپنے جسم سے رخصت ہوتی ہیں، اپنے اثر سے نہیں۔
ان کی آواز خاموش ہوتی ہے، مگر ان کا پیغام مزید دور تک سنائی دیتا ہے۔
ان کے قدم رک جاتے ہیں، مگر ان کے قدموں کے نشان آنے والی نسلوں کے لیے راستہ بن جاتے ہیں۔
سید حسن نصراللہ بھی شاید اسی حقیقت کا نام ہیں۔
اردن کے معروف مصنف اور سیاسی تجزیہ نگار "موفق محادین" نے سید حسن نصراللہ رضوان اللہ کی شہادت کی یاد میں اپنے مضمون «السید» میں اسی تاریخی و فکری پہلو کو مختلف زاویوں سے بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک سید محض ایک سیاسی یا عسکری شخصیت نہیں تھے بلکہ اپنے زمانے کی تاریخی ضرورتوں، سوالوں اور تضادات کا ایک جواب تھے۔
تاریخ میں فرد کا مقام
تاریخ میں کسی فرد کی تصویر اور اس کا مقام ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے اور ایک عہد سے دوسرے عہد تک بدلتا رہتا ہے۔ اسی مناسبت سے انسان کے لیے مختلف نام اور کردار سامنے آتے رہے ہیں؛ کبھی کاہن، کبھی پیغمبر، کبھی رہنما، پیشوا، بادشاہ، شہنشاہ اور صدر۔
جوں جوں معاشرتی ڈھانچے تبدیل ہوئے، شہری شعور اور اجتماعی ادارے وجود میں آئے سوشلسٹ یا دیگر انقلابات کے نتیجے میں سماجی معاہدے کے نظریات نمایاں ہوئے، اجتماعی زندگی میں فرد کا کردار بھی مختلف شکلیں اختیار کرتا گیا۔
اس اعتبار سے تاریخ اور فرد کا تعلق محض اتفاقی نہیں ہوتا۔ انسان اپنے عہد کے مخصوص حالات سے جدا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات حالات کسی فرد کو آگے لے آتے ہیں، اسے ایک فیصلہ کن کردار عطا کرتے ہیں اور تاریخ کو ایک عرصے کے لیے اس کے گرد حرکت دینے لگتے ہیں؛ اور کبھی تاریخ کی دھار فرد کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے۔
اساطیری شخصیت کو ڈھونڈنے والی دنیا
وہ دنیا جسے کبھی ’’تیسری دنیا‘‘ اور بعد میں ’’ترقی پذیر دنیا‘‘ کہا گیا، وہاں جاگیردارانہ تعلقات اور استعمار کی مختلف شکلوں نے طویل عرصے تک بہت سی اقوام اور طبقات کو آزادانہ ترقی اور جدید شہری ڈھانچوں کی طرف بڑھنے سے روکے رکھا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے معاشروں میں وہ مضبوط اجتماعی اور طبقاتی بنیادیں پیدا نہ ہو سکیں جو کسی جامع سیاسی یا نظریاتی منصوبے کا سہارا بن سکتیں۔
ایسے حالات میں ایک ایسی دنیا وجود میں آتی ہے جو اپنے تاریخی مسحور کن بے نظیر شخصیت کی تلاش میں رہتی ہے جسے فارسی میں قهرمان کہا جاتا ہے ہم اسے ایک چیمپئن کا نام دے سکتے ہیں ۔
جمال عبدالناصر کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے ہیکل نے بھی ایک ایسے ہی منظرنامے کی طرف اشارہ کیا تھا؛ ایک ایسا معاشرہ جو کسی تاریخی چیمپئن کی تلاش میں ہو، یا اس کے ظہور کا انتظار کر رہا ہو۔
ایسی شخصیت کا وجود اکثر ایک المیہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ اس کی زندگی اپنے عہد کے حقیقی تضادات، اس کے خوابوں اور اس کی شکستوں سے جڑ جاتی ہے۔
تموز، بعل اور مشرق کی خونیں داستان
یونانی اساطیر میں ہم دیکھتے ہیں کہ دیومالائی کردار اپنے زمانے کے حقیقی سماجی انتشار اور بحرانوں سے جنم لیتے تھے۔ چیمپئین کی دنیا اس محدود سیاسی حقیقت سے کہیں وسیع تھی جس میں جمہوریت اپنی جزئیات میں الجھ کر رہ گئی تھی۔
ایک ایسی جمہوریت جس کے خواب حقیقت سے آگے نکل گئے تھے، مگر حقیقت ابھی غلاموں کی محنت، سنگ تراشی کی کانوں اور معاشرتی ناہمواریوں میں قید تھی۔
مشرق کی قدیم تموزی روایت میں بھی ریاست سازی کے وقتی منصوبے، جنگلوں، صحراؤں اور قدیم عہد و پیمان کی اس ازلی پکار کے سامنے معمولی دکھائی دیتے ہیں۔
تموز آج بھی زرخیزی، خزاں، بہار اور نوروز کی گردش پر اپنی علامتی چھاپ رکھتا ہے۔
لیکن تاریخ کے اسی سفر میں برائی بھی اپنی شکلیں بدل بدل کر سامنے آتی رہی؛ گناہ بڑھتے گئے، ظلم کے صندوق کھلتے گئے اور موت کے نقاب مختلف چہروں کے ساتھ نمودار ہوتے رہے۔ نام بدلتے رہے، مگر ظلم کی چکی بھی چلتی رہی۔
مشرق کی تاریخ کو اسی کشمکش کے آئینے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے:
ایک طرف وہ قوتیں جو تباہی، قتل اور غلبے کی علامت بنتی رہیں، اور دوسری طرف وہ کردار جو زندگی، مزاحمت، عزت اور آزادی کی علامت بن کر سامنے آئے۔
شام کا تموز، کنعان کا بعل، مصر کا اوزیریس اور مختلف تہذیبوں کے وہ اساطیری کردار، جنہوں نے موت کے مقابل زندگی کی علامت قائم کی۔
اور پھر ایک دن اسی مشرق میں کربلا وجود میں آئی۔
پھر کربلا سے ایک ایسا کارواں چلا جس کا ایک پڑاؤ ضاحیہ بھی بنا۔
کربلا سے ضاحیہ تک ایک ہی سوال سفر کرتا رہا: ظلم کے سامنے انسان کہاں کھڑا ہو؟
یہاں خون صرف بہتا نہیں؛
یہاں خون تاریخ لکھتا ہے۔
*سید؛ آغاز سے انجام تک*
موفق محادین کے الفاظ میں سید حسن نصراللہ، ’’سید الشہداء‘‘، محاذ کے امام، مجاہدین کے جسم سے اٹھنے والے غبار کی علامت اور خود سپیدۂ صبح کی سانس تھے۔
وہ تاریخ سے بےگانہ کوئی شخص نہیں تھے۔
وہ کسی نظریاتی یا سیاسی منصوبے کی طرح تاریخ پر باہر سے چسپاں نہیں کیے گئے تھے؛ بلکہ اپنے عہد کے سوالات، ضرورتوں اور تاریخی تقاضوں کا ایک جواب تھے۔
وہ اس پکار کا جواب تھے جو تاریخ اپنے مخصوص لمحے میں بلند کرتی ہے۔
کچھ لوگ تنہائی اور بیگانگی کے سحر میں گرفتار ہوئے۔ کچھ ایسی نظریاتی سخت گیری کا شکار ہوئے جس نے انسانوں کو بے چہرہ ہجوم، خاموش اعداد اور دوسروں کو خارج یا تکفیر کرنے کے خشک پیمانوں میں تبدیل کر دیا۔
کچھ صرف سیاست میں الجھ گئے۔
کچھ حقیقت کی کوئی واضح تصویر نہ بنا سکے۔
اور کچھ ایسے معیاروں کے اسیر رہے جو یا تو بوسیدہ تھے، یا بانجھ، یا محض سطحی۔
وہ اپنے زمانے کے حقیقی سماجی، شہری، علاقائی اور عالمی حالات کو سمجھے بغیر ریاست سازی کے منصوبے بناتے رہے، یا فرقہ وارانہ، طبقاتی اور سیاسی تضادات کے جال میں ایسے الجھے کہ ان تضادات کی بنیادی حقیقت کو سمجھنے سے محروم ہوگئے۔
سید کے سامنے آزمائش اس لیے بھی دشوار تھی کہ منظرنامہ انتہائی پیچیدہ اور طوفانی تھا۔
اس کے اندر طاقت کے بڑے بڑے دھارے حرکت کر رہے تھے۔
اس لیے سید کے سامنے کم از کم تین بڑے چیلنج تھے:
اول: تاریخ کو اس کے تمام تضادات کے باوجود سمجھنا اور تسلیم کرنا۔
دوم: پورے منظرنامے کو ایک بلند مقام سے دیکھنا؛ محض ایک ٹکڑے کو نہیں، بلکہ پوری تصویر کو۔
سوم: قبائل، خاندانوں، امیرانِ قبائل، فرقوں اور مذہبی تقسیموں کے کھیل سے بلند ہو کر تضادات کی حقیقی حرکتوں کو سمجھنا۔
انقلاب یا ریاست؟ سید اور چی گویرا
سید نہ محض ایک حوزہ ، دینی درسگاہ یا یونیورسٹی کے استاد تھے، نہ کوئی تجریدی شاعر، اگرچہ ان کی گفتگو میں شاعرانہ تاثیر تھی۔
وہ صرف ایک مذہبی مبلغ بھی نہیں تھے، اگرچہ دینی علم ان کے وجود کا حصہ تھا۔
اور وہ روایتی معنوں میں محض ایک سیاست دان بھی نہیں تھے۔
ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ انقلاب اور ریاست کے درمیان ایک خاص توازن قائم رکھتے تھے۔
"موفق محادین" یہاں چی گویرا کی مثال سامنے لاتے ہیں۔
چی گویرا نے سوشلسٹ انقلاب کے بعد وزارتوں کے عہدے اور حکومتی ذمہ داریاں چھوڑ دیں اور کسانوں، چرواہوں اور مزدوروں کے ساتھ دشوار گزار پہاڑوں کا رخ کیا۔
دونوں کے انتخاب میں نہ انتشار پسندی تھی اور نہ حقیقت سے کٹی ہوئی جذباتیت۔
دونوں کا رشتہ غریبوں، مظلوموں اور محروموں سے تھا۔
کیونکہ صرف نیک نیتیں روٹی فراہم نہیں کرتیں۔
صرف خیالی ہتھوڑی اور آری سے مقبوضہ وطن کی کھڑکیوں اور دروازوں کی مرمت ممکن نہیں
اور نہ ہی ایسے حالات میں، جہاں بڑی عالمی طاقتیں، استعمار، جنگی مفادات اور معاشی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر طاقت کا توازن تشکیل دے رہے ہوں، محض رسمی سیاسی عمل ہر مسئلے کا جواب نہیں بن سکتا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر سید اور حزب اللہ خود کو صرف پارلیمانی سیاست، فرقہ وارانہ بنیادوں پر اقتدار کی تقسیم اور کسی بھی شکل میں حکومت تشکیل دینے تک محدود کر لیتے تو کیا صورت حال مختلف ہوتی؟
اگر سید خود کو صرف سیاسی و مذہبی نظری مباحث تک محدود رکھتے تو کیا ان کے مخالفین کی مزاحمت بھی کم ہوتی؟
مگر تاریخ نے انہیں ایک دوسرے راستے پر لا کھڑا کیا تھا۔
نجف سے ضاحیہ تک ان کا سفر، صہیونی تجاوزات کے خلاف مزاحمت اور مئی کے اس معاہدے کی مخالفت جسے ان کے مخالفین لبنان کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے، ایک ایسے تنازع میں داخل ہونے کا نام تھا جو صرف لبنان تک محدود نہیں تھا۔
اسی لیے سید کا ظہور محض ایک داخلی سیاسی واقعہ نہیں رہا۔
ان کے سامنے ایک ایسا وسیع تر عالمی و علاقائی منظرنامہ تھا جس میں استعمار، صہیونیت، عرب خطے کی داخلی کمزوریاں اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
مغربی سیاسی مفکرین کی بعض تحریروں اور تصورات کی بنیاد پر خطے کے لیے ایسے سیاسی نقشے بنانے کی کوششیں بھی ہوتی رہیں جن میں مقامی معاشروں کی حقیقی تاریخی و سماجی شرائط کو نظرانداز کیا گیا۔
اس کے نتیجے میں مختلف گروہوں کو ریاست کے باقی ماندہ ڈھانچے پر باہم لڑنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا۔
صہیونی ریاست کے ساتھ بنیادی تنازع کو محض ایک علاقائی بحران کے طور پر دیکھنے کی کوشش کی جاتی۔
اور وسیع تر قومی آزادی کے سوال کو پس منظر میں دھکیل دیا جاتا۔
یہ خیال بھی پیدا ہوا کہ عبدالناصر شاید اس مشرق کا آخری بڑا کردار تھا جو ایک ایسے خطے میں ابھرا جہاں لوگ اب بھی ایک چیمپئن کے منتظر تھے۔
لیکن تاریخ نے اس خیال کو ایک اور نام دیا:
سید حسن نصراللہ
عبدالناصر سے نصراللہ تک؛ آگ سے اٹھنے والی روحیں
یہاں پر مصنف ایک خوبصورت استعارہ استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مشرق کی تاریخ میں، جہاں سماجی طبقات اور سیاسی ادارے بارہا عدم استحکام کا شکار رہے، عبدالناصر اور نصراللہ کے درمیان ایک گہری تاریخی مماثلت دیکھی جا سکتی ہے۔
یہ وہ روحیں ہیں جو آگ سے اٹھتی ہیں۔
ایسی شخصیات اپنے محدود حلقوں اور وقتی مصلحتوں سے آگے نکل جاتی ہیں۔
وہ حکمتِ عملی کو ایک وسیع تر زاویے سے دیکھتی ہیں۔
وہ جنگ کے نئے قواعد کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اور بعض اوقات ایک پوری خطے کی سیاسی زبان کو بدل دیتی ہیں۔
ایسے کرداروں کے راستے کے نشانات اکثر اقتدار کے محلات میں نہیں بلکہ میدانوں میں ثبت ہوتے ہیں۔
اور کبھی کبھی تاریخ اپنے بڑے حروف خون سے لکھتی ہے۔
سید کی شہادت؛ ایک شخص کا خاتمہ یا ایک فکر کا آغاز؟
سید حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد سب سے اہم سوال شاید یہ نہیں کہ ایک عظیم مزاحمتی رہنما ہم سے جدا ہوگیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ:
وہ سوالات جن کا جواب دینے کے لیے "سید" نے اپنی زندگی صرف کی، کیا وہ بھی ختم ہوگئے؟
اگر ظلم باقی ہے تو مزاحمت کا سوال باقی ہے۔
اگر محرومی باقی ہے تو عدل کا سوال باقی ہے۔
اگر آزادی کا سوال باقی ہے تو آزادی کے لیے جدوجہد کی معنویت بھی باقی ہے۔
اگر انسان کو اس کی شناخت، وقار اور اختیار سے محروم کرنے والی قوتیں موجود ہیں تو ایسے انسانوں کی ضرورت بھی باقی ہے جو تاریخ کے سامنے سر جھکانے کے بجائے تاریخ کے رخ پر سوال اٹھانے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
اسی لیے سید حسن نصراللہ کو صرف ان کی تقریروں، تصاویر یا جنگی واقعات میں تلاش کرنا ان کی شخصیت کو محدود کرنا ہوگا۔
ان کا اصل سوال انسان کے سامنے ہے:
تم ظلم کو دیکھ کر کہاں کھڑے ہوتے ہو؟ کھڑے بھی ہو کہ نہیں
ہندوستان کے لئے کون ؟
پچھلے دو سالوں سے ہم شہید کی برسی منائی رہے ہیں اس بار بھی منائی نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ یاد بھی ایک رسم بن جائے گی یا ان یادوں کے جھروکوں سے ہمیں مستقبل کی شاہراہ تک پہنچنا نصیب ہوگا۔
ہندوستان جیسے کثیرالمذاہب، کثیرالثقافت اور کثیراللسان ملک میں سید حسن نصراللہ کی یاد کا ایک الگ پہلو یہ بھی ہے۔
یہاں ان کی شخصیت کو محض کسی ایک مذہبی یا سیاسی دائرے میں بند کرکے دیکھنا ان کے تاریخی اثر کو محدود کر دے گا۔
وطن عزیز کی تہذیبی روایت میں صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانیں، تہذیبیں اور فکری روایتیں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارتی آئی ہیں۔ ایسے معاشرے میں کسی بھی بڑے دینی یا سماجی کردار کی اصل آزمائش یہ ہے کہ وہ انصاف، انسانی وقار، مظلوم کی حمایت اور باہمی احترام جیسے اصولوں کو کس طرح زندہ رکھتا ہے۔
سید حسن نصراللہ کی زندگی سے اختلاف کرنے والے لوگ بھی ان کی ایک نمایاں خصوصیت سے انکار نہیں کر سکتے کہ انہوں نے اپنے عہد کے ایک بڑے سوال کو نظرانداز نہیں کیا۔ کہ دشمن کی ریشہ دوانیوں کے باوجود قوم کو کیسے آگے بڑھایا جائے انہوں نے اپنی سیاسی و فکری وابستگی کے مطابق اس کا جواب دینے کی کوشش کی اور اس کی بھاری قیمت بھی ادا کی۔
آج ہمارے ملک کو بھی ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو نفرت کے شور میں انصاف کی آواز سن سکیں؛
جو مذہب کو تقسیم کا ہتھیار نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری سمجھیں؛
جو کمزور کے درد کو اس کی شناخت دیکھے بغیر محسوس کریں؛
جو اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے دوسرے کے وجود اور عزت کا احترام کریں؛
اور جو مصلحت کے نام پر حق کے سوال کو دفن نہ کریں۔
سید حسن نصراللہ کا سب سے بڑا پیغام شاید یہی ہے کہ انسان اپنے عہد سے فرار اختیار نہ کرے۔
کیونکہ تاریخ میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب خاموش رہنا بھی ایک انتخاب بن جاتا ہے۔
اور کچھ مواقع ایسے ہوتے ہیں جب ایک انسان کا کھڑا ہوجانا ہزاروں انسانوں کے اندر کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔
سید چلے گئے، مگر سوال باقی ہے۔
کیا ہم صرف سید کی شہادت پر آنسو بہائیں گے، یا ان اصولوں کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے جن کے لیے وہ اپنی آخری سانس تک کھڑے رہے؟
آج سید کی لحد خاموش ہے، مگر ان کی زندگی ایک سوال بن کر زندہ ہے:
جب ظلم تاریخ کے دروازے پر دستک دے، تو اہلِ حق کہاں کھڑے ہوں گے؟
اور شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ مرتے نہیں؛
وہ اپنے خون سے آنے والی نسلوں کے لیے راستہ روشن کر جاتے ہیں۔
سید بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے جو آگ و خون کے دریا سے ابھرے اور دنیا پر چھا گئے
آج نفرتوں کے شعلوں کے درمیان ہمارا ملک کسی ایسی ہی مسحور کن شخصیت کا انتظار کر رہا ہے جو "خیمہ ولایت" سے اٹھے اور تمام مذاہب و مسالک و طبقات خاص کر مستضعفین کی پناہ بن جائے ۔










آپ کا تبصرہ